مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابُ الْحَدِّ فِي رِيحِ الشَّرَابِ الْمُسْكِرِ باب: منہ سے نشہ آور مشروب کی بو آنے پر حد لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 1567
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُجْلَدُ فِي رِيحِ الشَّرَابِ؟ فَقَالَ عَطَاءٌ: إِنَّ الرِّيحَ لَتَكُونُ مِنَ الشَّرَابِ الَّذِي فِيهِ بَأْسٌ، فَإِذَا اجْتَمَعُوا جَمِيعًا عَلَى شَرَابٍ وَاحِدٍ فَسَكِرَ أَحَدُهُمْ جُلِدُوا جَمِيعًا الْحَدَّ تَامًّا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَوْلُ عَطَاءٍ مِثْلُ قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يُخَالِفُهُ.حافظ محمد فہد
یحییٰ بن جریج نے کہا: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا شراب کی بو آنے پر حد لگائی جائے گی؟ تو عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بو اس شراب سے آتی ہے جس (کے پینے) میں حرج (نشہ) ہے، پس جب زیادہ لوگ ایک ہی قسم کی شراب پییں اور ان میں سے صرف ایک آدمی کو نشہ ہو جائے تو ان تمام پر مکمل کوڑوں کی حد نافذ کی جائے گی۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: عطاء کی بات بالکل عمر رضی اللہ عنہما کی بات کی طرح ہے۔