مسند الإمام الشافعي
كتاب الحدود— شرعی حدود (سزاؤں) کا بیان
بَابُ مِقْدَارِ الْحَدِّ باب: حد (سزا) کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 1563
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَشَارَ فِي الْخَمْرِ يَشْرَبُهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَرَى فِيهَا أَنْ يُجْلَدَ [ ص: 265 ] ثَمَانِينَ؛ فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ، وَإِذَا سَكِرَ هَذَى، وَإِذَا هَذَى افْتَرَى، أَوْ كَمَا قَالَ: فَجَلَدَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ فِي الْخَمْرِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.حافظ محمد فہد
ثور بن زید الدیلمی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شراب پینے والے کے متعلق مشورہ طلب کیا تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم سمجھتے ہیں کہ شرابی کو اسی (80) کوڑے لگائے جائیں، کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو اسے نشہ آتا ہے، اور جب نشہ آتا ہے تو وہ ہذیان بکتا ہے (بہکی بہکی باتیں کرتا ہے)، اور جب ہذیان بکتا ہے تو بہتان (افتراء) باندھتا ہے۔“ یا جس طرح انہوں نے فرمایا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے شراب پینے والے کو اسی (80) کوڑے لگائے۔