مسند الإمام الشافعي
كتاب الأطعمة والصيد والذبائح— کھانوں، شکار اور ذبیحوں کا بیان
بَابٌ فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ باب: پچھنے لگانے والے (حجام) کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 1517
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: نَعَمْ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ ، فَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ، وَأَمَرَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ، وَقَالَ: "إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ لِصِبْيَانِكُمْ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَلَا تُعَذِّبُوهُمْ بِالْغَمْزِ" .حافظ محمد فہد
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی؟ تو انہوں نے فرمایا، ہاں! ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو سینگی لگائی اور آپ ﷺ نے انہیں دو صاع دیے، اور ان کے مالکوں سے کہا کہ ان کے خراج میں کچھ کمی کر دیں اور فرمایا: ”تمہارے بہترین علاجوں میں سے ایک پچھنے لگانا (سینگی) ہے اور قسطِ بحری تمہارے بچوں کے دردِ حلق کے لیے ہے، انہیں حلق دبا کر اذیت نہ دو۔“