مسند الإمام الشافعي
كتاب الأطعمة والصيد والذبائح— کھانوں، شکار اور ذبیحوں کا بیان
بَابٌ فِي الضَّبُعِ باب: لگڑ بھگے (کے گوشت) کے متعلق بیان
حدیث نمبر: 1509
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ هِيَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَتُؤْكَلُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ.حافظ محمد فہد
ابن ابی عمار سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا بجو کا شکار جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پھر پوچھا: کیا اس کا کھانا درست ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پھر پوچھا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔