مسند الإمام الشافعي
كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات— حقِ شفعہ، صلح اور بنجر زمین آباد کرنے کا بیان
بَابٌ مِنْهُ فِي إِقْطَاعِ الدُّورِ وَالْعَقِيقِ باب: گھروں اور وادیِ عقیق کو بطور جاگیر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1502
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ النَّاسَ الدُّورَ، فَقَالَ حَيٌّ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَبْدِ بْنِ زُهْرَةَ: نَكِّبْ عَنَّا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلِمَ ابْتَعَثَنِي اللَّهُ إِذَنْ؟ إِنَّ اللَّهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهِمْ حَقُّهُ" .حافظ محمد فہد
یحییٰ بن جعدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگوں کے لیے گھروں کو معین کیا، جب بنوزہرہ کے ایک قبیلے جنہیں بنوعبد بن زہرہ کہا جاتا تھا نے کہا کہ ابن ام عبد (یعنی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو ہمارے گھروں سے ہٹائیں (یعنی ہمارے گھروں کے پاس انہیں قطعہ زمین نہ دیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مجھے اللہ تعالیٰ نے کیوں بھیجا ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتے جو مہمانوں کے حقوق ادا نہیں کرتی۔“