مسند الإمام الشافعي
كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات— حقِ شفعہ، صلح اور بنجر زمین آباد کرنے کا بیان
بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ باب: بنجر یا مردہ زمین کو آباد کرنے کا بیان
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الْأَزْرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ نَضْلَةَ: أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ قَامَ بِفِنَاءِ دَارِهِ ثُمَّ ضَرَبَ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: سَنَامُ الْأَرْضِ إِنَّ لَهَا سَنَامًا، زَعَمَ ابْنُ فَرْقَدٍ الْأَسْلَمِيُّ أَنِّي لَا أَعْرِفُ حَقِّي مِنْ حَقِّهِ لِي بَيَاضُ الْمَرْوَةِ وَلَهُ سَوَادُهَا، وَلِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: لَيْسَ لِأَحَدٍ إِلَّا مَا أَحَاطَتْ عَلَيْهِ جُدْرَانُهُ، إِنَّ إِحْيَاءَ الْمَوَاتِ مَا يَكُونُ زَرْعًا أَوْ حَفْرًا أَوْ يُحَاطُ بِالْجُدُرَاتِ وَهُوَ مِثْلُ إِبْطَالِهِ التَّحْجِيرَ، يَعْنِي مَا يَعْمُرُ بِهِ مِثْلَ مَا يُحَجِّرُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.علقمہ بن نضلہ سے روایت ہے کہ ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: ”بیچ والی زمین، بے شک زمین کے لیے بھی کہاں ہے۔“ تو ابن فرقد اسلمی نے یہ سمجھا کہ میں نے ان کے حق سے اپنا حق نہیں پہچانا لہذا میرے لیے مروہ کی سفیدی (یعنی غیر آباد زمین) اور ان کے لیے اس کی سیاہی (یعنی آباد زمین) ہے۔ جب یہ بات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”مینڈوں کے علاوہ کی جگہ کسی کے لیے نہیں ہے۔ بے شک بنجر زمین کو زندہ کرنا (آباد کرنا) جو کھیتی کی صورت میں ہو، یا کنواں کھودنے کی صورت میں یا مینڈوں کے اٹھانے کی صورت میں، وہ تصرف کے باطل کرنے کی طرح ہے، یعنی اس کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو تصرف سے ممانعت والی چیز کا ہوتا ہے۔“