مسند الإمام الشافعي
كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات— حقِ شفعہ، صلح اور بنجر زمین آباد کرنے کا بیان
بَابُ الصُّلْحِ وَنَحْوِهِ باب: آپسی صلح اور اس جیسے دیگر معاملات کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ خَلِيفَةَ سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعَرِيضِ، فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضٍ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ. فَأَبَى مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاكُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. فَدَعَا مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهُ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: لَا. فَقَالَ عُمَرُ: لِمَ تَمْنَعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ وَهُوَ لَكَ أَنْفَعُ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَلَا يَضُرُّكَ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: لَا. فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَّ بِهِ وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ.یحیی مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن خلیفہ نے عریض مقام سے چھوٹی نالی اپنی فصل تک کے لیے بنائی تو انہوں نے اسے محمد بن مسلمہ کی زمین سے گزارنا چاہا تو محمد بن مسلمہ نے انکار کر دیا، ضحاک نے اس بارے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بات کی تو انہوں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اسے راستہ دے دیں، محمد بن مسلمہ نے کہا نہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”جو چیز تیرے بھائی کے لیے نفع مند ہے تو اس سے اسے کیوں روکتا ہے حالانکہ وہ تیرے لیے بھی نفع مند ہے کہ تیری ساری زمین کو پانی بغیر مشقت کے مل جائے گا،“ پھر بھی محمد بن مسلمہ نے انکار کر دیا تو عمر نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ نالی ضرور گزرے گی اگر چہ تیرے اوپر سے ہی کیوں نہ گزرے۔“