مسند الإمام الشافعي
كتاب الشفعة والصلح وإحياء الموات— حقِ شفعہ، صلح اور بنجر زمین آباد کرنے کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ باب: غیر تقسیم شدہ جائیداد میں حقِ شفعہ کا بیان
حدیث نمبر: 1489
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ" .حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حق شفعہ اس جائیداد میں ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، جب حدود کا تعین کر دیا جائے تو پھر شفعہ کا حق نہیں ہے۔“