مسند الإمام الشافعي
كتاب الرهن والقراض والحجر والتفليس واللقطة— رہن، مضاربت، مالی پابندی، دیوالیہ پن اور گری پڑی چیز کا بیان
بَابُ اللُّقَطَةِ باب: گری پڑی چیز (لقطہ) اٹھانے کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 1488
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لَقُطَةً، فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: عَرِّفْهَا. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ: زِدْ. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ: لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَهَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.حافظ محمد فہد
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے راستے سے گری پڑی کوئی چیز اٹھا لی پھر وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: میں نے لقطہ پائی ہے، اب کیا کروں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس کا اعلان کرو۔ اس نے کہا: میں نے کیا۔ ابن عمر نے کہا: مزید کرو۔ اس نے کہا: میں نے بہت کیا۔ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تجھے ایسی چیز کے کھانے کا حکم نہیں دیتا، اگر تو چاہتا تو اسے نہ پکڑتا۔