مسند الإمام الشافعي
كتاب الرهن والقراض والحجر والتفليس واللقطة— رہن، مضاربت، مالی پابندی، دیوالیہ پن اور گری پڑی چیز کا بیان
بَابُ اللُّقَطَةِ باب: گری پڑی چیز (لقطہ) اٹھانے کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 1487
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ: أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ نَزَلَ مَنْزِلًا بِطَرِيقِ الشَّامِ، فَوَجَدَ صُرَّةً فِيهَا ثَمَانُونَ دِينَارًا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَرِّفْهَا عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، وَاذْكُرْهَا لِمَنْ يَقْدَمُ مِنَ الشَّامِ سَنَةً، فَإِذَا مَضَتِ السَّنَةُ فَشَأْنُكَ بِهَا.حافظ محمد فہد
عبید اللہ بن بدر نے بیان کیا کہ اس نے شام کے راستوں پر سفر کیا تو انہوں نے راستے میں ایک تھیلی پائی جس میں اَسی دینار تھے، پھر عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسجد کے دروازوں پر اس کا اعلان کرو، اور ایک سال تک جو بھی شام سے آئے اسے بتاؤ اور جب سال گزر جائے تو وہ تھیلی تمہاری ہے۔