مسند الإمام الشافعي
كتاب الرهن والقراض والحجر والتفليس واللقطة— رہن، مضاربت، مالی پابندی، دیوالیہ پن اور گری پڑی چیز کا بیان
بَابُ التَّفْلِيسِ باب: دیوالیہ قرار دینے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1485
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُعْتَمِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ وَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ، أَنَّهُ قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَفْلَسَ، فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ، فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ" . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ التَّفْلِيسِ، وَهِيَ مَا فِيهِ.حافظ محمد فہد
مدینہ کے قاضی ابو خلدہ الزرقی نے بیان کیا کہ ہم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مفلس آدمی کو لے کر آئے تو انہوں نے فرمایا: اسی کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی آدمی فوت ہو گیا یا مفلس ہو گیا تو سامان کا مالک جب اپنے مال کو بعینہ اسی حالت میں پائے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“