مسند الإمام الشافعي
كتاب الرهن والقراض والحجر والتفليس واللقطة— رہن، مضاربت، مالی پابندی، دیوالیہ پن اور گری پڑی چیز کا بیان
بَابُ الْحَجْرِ باب: (مالی) تصرف پر پابندی لگانے کا بیان
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِهِ: قُلْتُ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ أَوْ غَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الصِّدْقِ فِي الْحَدِيثِ أَوْ هُمَا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ابْتَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْعًا، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَآتِيَنَّ عُثْمَانُ فَلَأَحْجُرَنَّ عَلَيْكَ وَأَعْلَمَ ذَلِكَ ابْنُ جَعْفَرٍ الزُّبَيْرَ، فَقَالَ: أَنَا شَرِيكُكَ فِي بَيْعِكَ، فَأَتَى عُثْمَانَ، فَقَالَ: احْجُرْ عَلَى هَذَا. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا شَرِيكُهُ، فَقَالَ: عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَحْجُرُ عَلَى رَجُلٍ شَرِيكُهُ الزُّبَيْرُ؟ أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے کوئی چیز خریدی تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں گا اور تیرے خلاف تصرف نہ کرنے کا مقدمہ درج کروں گا۔“ جب عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے یہ بات زبیر رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: ”میں تیری اس بیع میں تیرا شریک ہوں۔“ پھر وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کو (مال میں) تصرف سے روک دیں (کیونکہ یہ فضول خرچی کر رہا ہے)۔“ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس کا حصے دار ہوں۔“ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ایسے آدمی کو تصرف سے کیسے روک سکتا ہوں جس کا حصے دار زبیر رضی اللہ عنہ ہو۔“