مسند الإمام الشافعي
كتاب الرهن والقراض والحجر والتفليس واللقطة— رہن، مضاربت، مالی پابندی، دیوالیہ پن اور گری پڑی چیز کا بیان
بَابُ غُنْمِ الرَّهْنِ وَغُرْمِهِ باب: مرہونہ چیز (گروی رکھی چیز) کے فائدے اور تاوان کا بیان
حدیث نمبر: 1479
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي رَهَنَهُ، لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ" .حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گروی رکھنے والے سے گروی رکھی ہوئی چیز نہیں روکی جائے گی، اس کا فائدہ بھی اسی کے لیے ہے اور تاوان کا بھی وہی ذمہ دار ہے۔“