مسند الإمام الشافعي
كتاب الرهن والقراض والحجر والتفليس واللقطة— رہن، مضاربت، مالی پابندی، دیوالیہ پن اور گری پڑی چیز کا بیان
بَابُ غُنْمِ الرَّهْنِ وَغُرْمِهِ باب: مرہونہ چیز (گروی رکھی چیز) کے فائدے اور تاوان کا بیان
حدیث نمبر: 1477
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ الرَّهْنَ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي رَهَنَهُ، لَهُ غُنْمُهُ وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: غُنْمُهُ: زِيَادَتُهُ، وَغُرْمُهُ: هَلَاكُهُ وَنَقْصُهُ.حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گروی رکھی ہوئی چیز گروی رکھنے والے سے نہیں روکی جائے گی، گروی رکھنے والے کے لیے گروی رکھی ہوئی چیز کی منفعت بھی ہے اور اس کا تاوان بھی اسے ہی دینا ہوگا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غنمہ“ کا مطلب ہے اس کی زیادتی و فائدہ اور ”غرمہ“ کا مطلب ہے اس کا ہلاک ہونا یا اس میں نقصان ہو جانا۔