مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ الْمُسَاقَاةِ باب: بٹائی پر درخت دینے (آبیاری) کے مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 1472
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُودِ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ: "أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى أَنَّ التَّمْرَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ" ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ يَقُولُ: إِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِي، فَكَانُوا يَأْخُذُونَهُ.حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کیا تو یہودیوں سے کہا: ”میں تمہیں یہاں اس حکم پر رہنے دیتا ہوں جس پر تمہیں اللہ نے ٹھہرایا ہے وہ یہ کہ کھجوریں ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہوں گی۔“ فرمایا، پھر رسول اللہ ﷺ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجتے اور وہ ان کے لیے اندازہ لگا کر فرماتے کہ انتخاب کا اختیار تمہیں حاصل ہے، تو وہ پہلے لے لیتے تھے۔