مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ كِرَى الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ باب: زمین کا سونا یا چاندی کے بدلے کرایہ لینا
حدیث نمبر: 1470
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يَشْتَرِطُ [ ص: 211 ] عَلَى الَّذِي يَكْرِيهِ أَرْضَهُ أَلَا يَعُرَّهَا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْكِرَى. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الرُّهُونِ وَالْإِجَارَاتِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الدَّعَاوِي وَالْبَيِّنَاتِ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ان سے کوئی ان کی زمین کرایہ پر لیتا تو وہ یہ شرط عائد کرتے کہ وہ (زمین میں) کھاد نہیں ڈالے گا اور یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے زمین کو کرایہ پر دینے کا معاملہ چھوڑ دینے سے پہلے کی بات ہے۔