مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ باب: شراب کی خرید و فروخت کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 1463
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالُوا: إِنَّا نَبْتَاعُ مِنْ تَمْرِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ، فَنَعْصِرُهُ خَمْرًا فَنَبِيعُهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتَهُ وَمَنْ يَسْمَعُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَنِّي لَا آمُرُكُمْ بِبَيْعِهَا وَلَا تَبْتَاعُوهَا وَلَا تَعْصِرُوهَا وَلَا تَسْقُوهَا؛ فَإِنَّهُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عراقیوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا، ہم کھجوروں اور انگوروں کو خریدیں گے پھر شراب نچوڑ کر اسے بیچیں گے۔ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور انسانوں، جنوں میں سے جو کوئی بھی سن رہا ہے اسے تمہارے اوپر گواہ بتاتا ہوں کہ نہ میں تمہیں یہ بیچنے کا حکم دیتا ہوں نہ خریدنے کا نہ نچوڑنے کا اور نہ ہی پلانے کا، کیونکہ یہ گندگی شیطانی عمل ہے۔