مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ باب: زندہ جانور کا گوشت کے بدلے تبادلے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1456
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدْتُ جَزُورًا قَدْ جُزِرَتْ فَجُزِّئَتْ أَجْزَاءً، كُلُّ جُزْءٍ مِنْهَا بِعَنَاقٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ مِنْهَا جُزْءًا، فَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُبَاعَ حَيٌّ بِمَيِّتٍ، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ، فَأُخْبِرْتُ عَنْهُ خَيْرًا.حافظ محمد فہد
قاسم بن ابو بزہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اونٹوں کو ذبح شدہ پایا، اور ان کے گوشت کے حصے بھی ہو چکے تھے، ہر ایک جز بکری یا بھیڑ کے ایک سال کے بچہ کے برابر تھا۔ میں نے ان میں سے ایک حصہ خریدنا چاہا تو مدینہ والوں میں سے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے زندہ جانور کو مردہ کے عوض بیچنے سے منع فرمایا۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے اس آدمی کے متعلق پوچھا تو مجھے اس کے بارے میں اچھا تعارف کرایا گیا۔