مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مُتَفَاضِلًا باب: ایک جانور کا دوسرے سے کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ
حدیث نمبر: 1451
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي تَمِيمٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُصَدِّقًا لَهُ فَجَاءَ بِظَهْرٍ مُسِنَّاتٍ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ" . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَبِيعُ الْبَكْرَيْنِ وَالثَّلَاثَ بِالْبَعِيرِ الْمُسِنِّ يَدًا بِيَدٍ، وَعَلِمْتُ مِنْ حَاجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الظَّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَذَلِكَ إِذَنْ" .حافظ محمد فہد
زیاد بن ابی تمیم (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ایک صحابی کو صدقہ اکٹھا کرنے کے لیے بھیجا تو وہ سواری والے دوندے اونٹ لے آئے، جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”تو خود بھی تباہ ہو گیا اور (دوسروں کو بھی) تو نے ہلاک کر دیا۔“ اس پر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دو اور تین اونٹوں کو ایک دوندے اونٹ کے عوض نقد و نقد بیچتا تھا اور میں نبی ﷺ کی سواری والے اونٹوں کی ضرورت کو جانتا تھا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”تب ٹھیک ہے۔“