مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مُتَفَاضِلًا باب: ایک جانور کا دوسرے سے کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ
حدیث نمبر: 1450
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَمْ يَسْمَعْ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بِعْهُ" ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَهُ حَتَّى يَسْأَلَهُ: أَعَبْدٌ هُوَ أَوْ حُرٌّ.حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک غلام نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کرنے پر بیعت کی، اور آپ ﷺ نے یہ معلوم نہ کیا کہ وہ غلام ہے کہ اتنے میں اس کا مالک اسے لینے آگیا۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو بیچ دو۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے دو حبشی غلاموں کے عوض خرید لیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے کسی سے اس وقت تک بیعت نہ کی جب تک کہ یہ نہ پوچھ لیا کہ کیا وہ غلام ہے یا آزاد۔