حدیث نمبر: 1444
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ سَلَّفَ فِي سَبَائِكَ، قَالَ الرَّبِيعُ: سَبَائِكَ، فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ، وَكَرِهَ ذَلِكَ. وَقَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى لِأَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَاهُ بِأَكْثَرَ مِنَ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنْهُ، وَلَوْ بَاعَهَا مِنْ غَيْرِ الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ لَمْ يَكُنْ بِبَيْعِهِ بَأْسٌ.
حافظ محمد فہد

قاسم بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ان سے ایک آدمی پوچھ رہا تھا ایک ایسے آدمی کے متعلق جس نے کپڑوں میں بیع سلم کی اور ان کا مالک بننے سے پہلے انہیں بیچنا چاہا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ تو چاندی کو چاندی کے عوض بیچنے کی طرح ہے“ اور اس بیع کو ناپسند کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمارے خیال میں چونکہ اس نے اسی آدمی کو جس سے بیع کی تھی زیادہ قیمت پر بیچنا چاہا، (اس لیے ناپسند کیا) اور اگر جس سے مال خریدا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو بیچا جائے تو اس بیع میں حرج نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1444
تخریج حدیث اسناده صحیح اخرجه مالك فى الموطا، البيوع، باب السلف في العروض۔