مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ السَّلَفِ الْمَضْمُونِ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ باب: بیعِ سلم (پیشگی رقم) کا بیان، ایک مقررہ مدت تک
حدیث نمبر: 1438
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ: "مَنْ سَلَّفَ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ" . قَالَ: فَحَفِظْتُهُ كَمَا وَصَفْتُ مِنْ سُفْيَانَ مِرَارًا.حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ ایک اور دو سال تک کھجوروں میں بیع سلم کرتے تھے، اور بعض دفعہ تین کا لفظ بھی بولا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بیع سلم کرے اسے چاہیے کہ مقررہ پیمانے اور مقررہ وزن کے ساتھ، مقررہ مدت کے لیے کرے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس طرح میں نے حدیث بیان کی اسی طرح میں نے سفیان سے کئی بار سن کر یاد کیا۔“