مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ باب: مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ (پیداوار کے بدلے تخمینے سے بیع) کی ممانعت
حدیث نمبر: 1414
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ. وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقِ حِنْطَةٍ. وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَبِيعَ التَّمْرَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقٍ. وَالْمُخَابَرَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ.حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ محاقلہ، یہ ہے کہ آدمی بالی میں موجود گیہوں کو سو فرق (ایک پیمانہ کا نام ہے) صاف گیہوں کے عوض بیچے، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درختوں پر موجود کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے سو فرق کے بدلے بیچے، اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو تیسرے یا چوتھے حصے کے عوض بٹائی پر دے دے۔