حدیث نمبر: 1413
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ. وَالْمُحَاقَلَةُ: اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ. [ ص: 187 ] قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَسَأَلْتُ عَنِ اسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ.
حافظ محمد فہد

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا۔ مزابنہ، درخت کی کھجوروں کو، ٹوٹی ہوئی کھجوروں کے بدلے خریدنے کا نام ہے، اور محاقلہ بالی کے اندر گیہوں کو صاف گیہوں کے عوض خریدنے کا نام ہے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے زمین کو کرایہ پر درہم و دینار کے عوض دینے کے متعلق دریافت کیا تو ابن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا، اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1413
تخریج حدیث صحیح موصولا اخرجه ابوداود، البيوع، باب في التشديد في ذلك (3400) وابن ماجة، التجارات، باب بيع المزابنة والمحاقلة (2267)۔