مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ باب: مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ (پیداوار کے بدلے تخمینے سے بیع) کی ممانعت
حدیث نمبر: 1412
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ. وَالْمُحَاقَلَةُ: اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ.حافظ محمد فہد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ اور محاقلہ کی بیع سے منع فرمایا۔ مزابنہ، درخت کی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے خریدنے کو کہتے ہیں اور محاقلہ، زمین کو گیہوں کے عوض کرایہ پر لینے کو کہتے ہیں۔