مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ باب: مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ (پیداوار کے بدلے تخمینے سے بیع) کی ممانعت
حدیث نمبر: 1411
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا.حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر، اور بیل پر لگے انگور کو خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے۔