مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ باب: گندم کا جو کے بدلے اور کھجور کا کھجور کے بدلے (کمی بیشی سے) تبادلہ
حدیث نمبر: 1410
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَنَّهُ أَرْخَصَ فِي الْعَرَايَا. أَخْرَجَ السَّبْعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ.حافظ محمد فہد
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت کی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے بیچا جائے، البتہ آپ ﷺ نے عرایا میں رخصت دی۔