مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ باب: گندم کا جو کے بدلے اور کھجور کا کھجور کے بدلے (کمی بیشی سے) تبادلہ
حدیث نمبر: 1406
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ: بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ، إِنْ زَادَ فَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذَا إِلَّا أَنَّهُ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا.حافظ محمد فہد
اسماعیل الشیبانی یا ان کے علاوہ کسی اور نے بیان کیا کہ میں نے کھجور کے درختوں کے اوپر ہی کھجوروں کو 100 وسق کے بدلے اس شرط پر بیچا کہ اگر زیادہ ہوں تو خریدار کی ہوں گی اور اگر (100 وسق سے) کم ہوئیں تو نقصان بھی اسی پر ہوگا۔ پھر میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ آپ ﷺ نے عرایا کی بیع میں اجازت دی۔