حدیث نمبر: 1395
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ، وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ، يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ" . وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا التَّمْرَ أَوِ الْمِلْحَ، وَزَادَ أَحَدَهُمَا: "مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى" . أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
حافظ محمد فہد

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے عوض، چاندی کو چاندی کے عوض، گیہوں کو گیہوں کے عوض، جو کو جو کے عوض، کھجور کو کھجور کے عوض، اور نمک کو نمک کے عوض، برابر برابر بیچنے کے سوا معین کو معین کے سوا، نقد و نقد کے علاوہ نہ بیچو اور لیکن سونے کو چاندی کے عوض، چاندی کو سونے کے عوض، گیہوں کو جو کے بدلے، جو کو گیہوں کے عوض، کھجور کو نمک کے عوض، اور نمک کو کھجور کے عوض جس طرح چاہو نقد و نقد بیچو۔“ دونوں میں سے ایک نے کھجور یا نمک کو کم کیا ہے اور ان دونوں میں سے ایک نے یہ زیادتی بیان کی کہ ”جس نے اضافہ دیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سودی کام کیا۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1395
تخریج حدیث صحيح اخرجه النسائي البيوع، باب بيع البر بالبر (4564) ، (4565) وابن ماجة، التجارات، باب الصرف وما لا يجوز متفاضلا يدا بيد (2254) ومسلم ، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدا (1587) - عن طريق آخر۔