مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابٌ مِنْهُ فِي الذَّهَبِ وَالْحُبُوبِ باب: سونے اور غلے کے تبادلے کے متعلق ایک اور باب
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ" . قَالَ: "وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا التَّمْرَ أَوِ الْمِلْحَ" . قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ: فِي كِتَابِي: عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهِ بِنَظَرٍ فِي كِتَابِ الشَّيْخِ، يَعْنِي: الرَّبِيعَ.عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے عوض، چاندی کو چاندی کے عوض، دانوں کے بدلے دانوں کو، جو کے بدلے جو کو، اور نمک کے بدلے نمک کو برابر برابر اور معین کو معین کے عوض، اور نقد کو نقد کے علاوہ نہ بیچو، لیکن سونے کو چاندی کے بدلے، چاندی کو سونے کے عوض، گیہوں کو جو کے بدلے، جو کو گیہوں کے عوض کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے عوض ہاتھوں ہاتھ جس طرح چاہو بیچو۔“ فرمایا: ”مسلم بن یسار اور دوسرے آدمی میں سے ایک نے کھجور یا نمک کو کم کیا ہے۔“ ابوالعباس نے کہا میری کتاب میں ”عن ایوب عن ابن سیرین“ ہے، پھر شیخ یعنی ربیع کی کتاب میں دیکھا۔