مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابٌ مِنْهُ فِي الذَّهَبِ وَالْحُبُوبِ باب: سونے اور غلے کے تبادلے کے متعلق ایک اور باب
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ: أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمَائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي، وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي أَوْ حَتَّى تَأْتِيَ خَازِنَتِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَنَا شَكَكْتُ، وَعُمَرُ يَسْمَعُ، [ ص: 173 ] فَقَالَ: عُمَرُ: وَاللَّهِ لَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَرَأْتُهُ عَلَى مَالِكٍ صَحِيحًا لَا شَكَّ فِيهِ، ثُمَّ طَالَ عَلَيَّ الزَّمَانُ فَلَمْ أَحْفَظْ حِفْظًا فَشَكَكْتُ فِي خَازِنَتِي أَوْ خَازِنِي وَغَيْرِي يَقُولُ عَنْهُ: خَازِنِي.مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہ انہیں 100 دینار (درہم سے) بدلنے تھے، بیان کیا کہ مجھے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بلایا، ہم نے اپنے معاملہ کی بات چیت کی یہاں تک کہ میرا معاملہ طے ہو گیا، انہوں نے دینار لیے اور انہیں اپنے ہاتھ میں الٹنے پلٹنے لگے پھر فرمایا: ”ذرا میرے خزانچی مرد یا خزانچی عورت کو غابہ سے آ لینے دو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ مجھے شک ہوا ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ یہ باتیں سن رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو جدا نہ ہونا۔“ پھر فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا، سونے کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہے، کھجور کھجور کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہے، اور جو، جو کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یہ حدیث مالک رحمہ اللہ پر بغیر شک کے صحیح پڑھی، پھر لمبا وقت گزر گیا اور میں یاد نہ رکھ سکا لہذا مجھے خازنی اور خازنتہ میں شک ہو گیا۔ البتہ میرے علاوہ دوسرے راوی امام مالک رحمہ اللہ سے ”خازنی“ بیان کرتے ہیں۔