مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ الْمُصَارَفَةِ باب: بیعِ صرف (کرنسی کے بدلے کرنسی کا تبادلہ) کا بیان
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا. فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ، أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالْخَامِسَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالسَّادِسَ وَالسَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زیادہ قیمت پر بیچا، تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا، میں نے نبی ﷺ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا، میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں، تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”معاویہ کے معاملہ میں کون میرا عذر مانتا ہے، میں اسے رسول اللہ ﷺ کی حدیث سناتا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے بتاتا ہے، میں اس علاقے میں ہی نہیں رہوں گا، جس میں (اے معاویہ!) تم رہتے ہو۔“