مسند الإمام الشافعي
كتاب البيوع— خرید و فروخت (تجارت) کے مسائل کا بیان
بَابُ الْمُصَارَفَةِ باب: بیعِ صرف (کرنسی کے بدلے کرنسی کا تبادلہ) کا بیان
حدیث نمبر: 1384
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، لَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا تُشِفُّوا [ ص: 170 ] بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ" .حافظ محمد فہد
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے عوض برابری کے سوا اور طریقہ سے نہ بیچو، اور ایک کو دوسرے سے زیادہ بھی نہ کرو، نہ چاندی کو چاندی کے بدلے برابری کے سوا اور طریقہ سے بیچو، ہاں نقد و نقد، ہاتھوں ہاتھ اور نہ ایک کو دوسرے سے زیادہ کرو، اور نہ ہی ان میں کسی غیر موجود چیز کو موجود کے بدلہ میں بیچو۔“