حدیث نمبر: 1377
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافٍ، قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهُ، ثُمَّ ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ، فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَضَى لِي بِرَدِّهِ، وَقَضَى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهِ، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ، فَأُخْبِرُهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي مِثْلِ هَذَا أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ، فَعَجِلْتُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ مَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَيْسَرَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءِ قَضِيَّتِهِ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أُرِدْ فِيهِ إِلَّا الْحَقَّ، فَبَلَغَنِي فِيهِ سُنَّةٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرُدُّ قَضَاءَ عُمَرَ وَأُنْفِذُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ، فَقَضَى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضَى بِهِ عَلَيَّ لَهُ.
حافظ محمد فہد

مخلد بن خفاف نے بیان کیا کہ میں نے غلام خریدا پھر اس سے نفع حاصل کیا، پھر اس میں کوئی عیب پایا، تو میں نے اس کا مقدمہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ہاں درج کیا تو انہوں نے اسے واپس لوٹا دینے کا فیصلہ دیا، اور ساتھ ہی اس کا کمایا ہوا غلہ بھی دینے کا کہا۔ پھر میں عروہ رحمہ اللہ کے پاس آیا، جب ان کو بات بتلائی تو انہوں نے کہا: میں شام کے وقت ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کے مقدمہ میں فیصلہ یہ دیا کہ آمدنی اس کو ملے گی جو نقصان برداشت کرنے کا ضامن اور جواب دہ ہے۔ میں جلدی سے عمر (بن عبدالعزیز) رحمہ اللہ کے پاس گیا اور انہیں وہ بات بتائی جو عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے نبی ﷺ سے بیان کی۔ تو عمر رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے لیے اپنا فیصلہ بدلنا کتنا آسان ہے۔ اللہ جانتا ہے میرا اس میں بھی حق کے سوا اور کوئی ارادہ نہ تھا، اب مجھے اس معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کا طریقہ پہنچ چکا ہے، لہٰذا میں عمر کے فیصلے کو رد کر کے سنتِ رسول ﷺ کو نافذ کرتا ہوں، پھر شام کو عروہ رحمہ اللہ بھی ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے میرے لیے یہ فیصلہ دیا کہ میں وہ آمدنی واپس لے لوں۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1377
تخریج حدیث اخرجه ابوداود، البيوع، باب فيمن اشترى عبدا فاستعمله ثم وجد به عيبا (3508)، (3509) والترمذى، البيوع، باب ماجاء فيمن اشترى العبد ويستغله ثم يجذبه عيبا (1285) و قال حسن صحيح. وابن ماجة ، التجارات، باب الخراج بالضمان ، (2242) - والنسائي (4495) وصححه ابن الجارود (627) والحاكم : 2/ 15 - وابن حبان ۔