حدیث نمبر: 1374
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَأَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، وَجَبَتِ الْبَرَكَةُ فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتِ الْبَرَكَةُ مِنْ بَيْعِهِمَا" .
حافظ محمد فہد

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیچنے اور خریدنے والے کو جب تک وہ جدا نہ ہوں (بیع توڑنے کا اختیار حاصل ہے)۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور عیب نہ چھپائیں تو ان کی بیع میں برکت واجب ہو جاتی ہے، اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت ختم کر دی جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب البيوع / حدیث: 1374
تخریج حدیث اخرجه البخاري، البيوع، باب اذا كان البائع بالخيار هل يجوز البيع ؟ (2113)، (2110) ، ومسلم ، البيوع باب الصدق في البيع والبيان (1531)، (1532)۔