مسند الإمام الشافعي
كتاب الفرائض والوصية— وراثت کے حصوں اور وصیت کا بیان
بَابُ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَالْحَجَّةُ الْوَاجِبَةُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ باب: وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، اور واجب الحج اصل ترکے سے ادا ہوگا
حدیث نمبر: 1354
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ: أَنَّهُمَا قَالَا: الْحَجَّةُ الْوَاجِبَةُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.حافظ محمد فہد
ابن جریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ طاؤوس اور عطاء رحمہما اللہ نے بیان فرمایا کہ: ”واجب حج (جومیت کے ذمہ تھا) اس کی ادائیگی اصل مال سے ہوگی۔“