مسند الإمام الشافعي
كتاب الفرائض والوصية— وراثت کے حصوں اور وصیت کا بیان
بَابُ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَالْحَجَّةُ الْوَاجِبَةُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ باب: وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، اور واجب الحج اصل ترکے سے ادا ہوگا
حدیث نمبر: 1353
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ" .حافظ محمد فہد
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(وارث بننے والے) کے لیے وصیت نہیں ہے۔“