مسند الإمام الشافعي
كتاب الفرائض والوصية— وراثت کے حصوں اور وصیت کا بیان
بَابُ لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ مِنْ مَقْتُولِهِ شَيْئًا باب: قاتل اپنے مقتول کی وراثت میں سے کچھ نہیں پائے گا
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، يُقَالُ لَهُ: قَتَادَةُ، حَذَفَ ابْنَهُ أَوْ حَذَفَ بِسَيْفٍ، فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنُزِيَ فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ. فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جَعْشَمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، [ ص: 149 ] فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ عُمَرُ: اعْدُدْ لِي عَلَى قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ حِينَ أَقْدَمُ عَلَيْكَ. فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: هَأَنَا ذَا، قَالَ: خُذْهَا؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ" . أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ بنی مدلج کے ایک آدمی قتادہ نے اپنے بیٹے کو مارا یا تلوار ماری (یہ راوی کا شک ہے) جو اس کی پنڈلی کو لگی تو اس کے زخم سے خون مسلسل بہتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ پھر سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں آپ کے پاس آؤں تو مقام قدید پر 120 اونٹ تیار رکھنا۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ان اونٹوں سے 30 حقے، 30 جذعے اور 40 حاملہ اونٹنیاں لے کر فرمایا، مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ اس نے کہا، میں یہاں ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ان کو لے لے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کچھ بھی (میراث یا دیت سے حصہ) نہیں ہے۔“