مسند الإمام الشافعي
كتاب اللعان— لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام) کا بیان
بَابُ عَرْضِ التَّوْبَةِ وَمَنْ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ باب: توبہ پیش کرنے اور اس عورت کا بیان جس نے کسی خاندان میں ایسے بچے کو شامل کیا جو ان میں سے نہیں
حدیث نمبر: 1345
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ الْقُرَظِيَّ، قَالَ الْمَقْبُرِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَمْ يُدْخِلْهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ. وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ فِي الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ" . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الظِّهَارِ وَاللِّعَانِ.حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا، جب لعان کی آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس عورت نے کسی قوم میں کسی کو داخل کر دیا جو ان میں سے نہیں ہے (یعنی زنا کی اولاد پیدا کی) تو اس عورت کے لیے اللہ کی طرف سے کچھ خیر نہیں ہے اور نہ ہی اللہ اسے جنت میں داخل کریں گے، اور جس آدمی نے اپنے بچے کا انکار کر دیا باوجود اس کے کہ وہ اس کی طرف دیکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ فرما لیں گے اور اسے پہلوں اور پچھلوں تمام لوگوں کے سامنے رسوا کریں گے۔“