مسند الإمام الشافعي
كتاب الصلاة— نماز کے مسائل
بَابُ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ باب: ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت (تاخیر سے) پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 134
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب گرمی تیز ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ گرمی کی تیزی دوزخ کی آگ کی بھاپ کی وجہ سے ہے۔“ اور فرمایا: ”دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا: (آگ کی شدت کی وجہ سے) میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی، ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے۔