حدیث نمبر: 1338
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولِ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عِفَارِ النَّخْلِ، قَالَ: وَعِفَارُهَا أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ، قَالَ: وَقَدْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا مُصَفَّرًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ سَبْطَ الشَّعَرِ، وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلًا إِلَى السَّوَادِ جَعْدًا قَطَطًا مُسْتَهًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اللَّهُمَّ بَيِّنْ" . ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ.
حافظ محمد فہد

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! جب سے کھجوروں کی تعفیر (پیوند کاری) ہوئی میں اپنے گھر والوں سے نہیں ملا۔ ابن عباس نے فرمایا، اعفار کا یہ مطلب ہے کہ کھجور کے درخت کو پیوند لگا کر چالیس روز تک یوں ہی چھوڑ دیتے پھر اسے پیوند لگانے کے بعد پانی نہیں دیتے تھے۔ اس آدمی نے کہا، (واقعہ یہ ہے) کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا۔ فرمایا: اس کا خاوند زرد رنگ والا، پتلی پنڈلیوں والا، اور سیدھے بالوں والا تھا، اور جس کے ساتھ اس پر تہمت لگائی گئی وہ موٹا، سیاہی مائل رنگت والا اور سخت گھنگھریالے بالوں والا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس معاملہ کو واضح کر دے۔“ پھر ان دونوں کے درمیان لعان کرایا، پھر اس نے بچہ اسی آدمی کی شکل کا جنا جس کے ساتھ زنا کی اس پر تہمت لگی تھی۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب اللعان / حدیث: 1338
تخریج حدیث صحيح من غير هذا الطريق اخرجه البخارى الطلاق، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم ، لو كنت راجماً بغير بينة (5310) ومسلم، اللعان (1497)۔