حدیث نمبر: 1337
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَجْلَانِيُّ وَهُوَ أُحَيْمِرُ سَبْطٌ نِضْوُ الْخَلْقِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شَرِيكَ بْنَ السَّحْمَاءِ، يَعْنِي: ابْنَ عَمِّهِ، وَهُوَ رَجُلٌ عَظِيمُ الْأَلْيَتَيْنِ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ حَالُ الْخَلْقِ يُصِيبُ فُلَانَةَ، يَعْنِي: امْرَأَتَهُ، وَهِيَ حُبْلَى، وَمَا قَرِبْتُهَا مُنْذُ كَذَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِيكًا فَجَحَدَهُ وَدَعَا الْمَرْأَةَ فَجَحَدَتْ، فَلَاعَنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا وَهِيَ حُبْلَى، ثُمَّ قَالَ: "تُبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا" . فَجَاءَتْ بِهِ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا: "إِنَّ أَمْرَهُ لَبَيِّنٌ لَوْلَا مَا قَضَى اللَّهُ" . يَعْنِي: أَنَّهُ لِمَنْ زَنَى لَوْلَا مَا قَضَى اللَّهُ مِنْ أَنْ لَا يُحْكَمَ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِإِقْرَارٍ أَوِ اعْتِرَافٍ عَلَى نَفْسِهِ، لَا يَحِلُّ بِدَلَالَةِ غَيْرِ وَاحِدٍ [ ص: 143 ] مِنْهُمَا وَإِنْ كَانَتْ بَيِّنَةً، فَلَوْلَا مَا قَضَى اللَّهُ لَكَانَ لِي فِيهَا قَضَاءٌ غَيْرُهُ وَلَمْ يَعْرِضْ لِشَرِيكٍ وَلَا لِلْمَرْأَةِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَأَنَفْذَ لِلْحُكْمِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَهُمَا كَاذِبٌ. ثُمَّ عَلِمَ بَعْدُ أَنَّ الزَّوْجَ هُوَ الصَّادِقُ.
حافظ محمد فہد

ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عویمر العجلانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور وہ سرخ رنگ، سیدھے بالوں والے اور کمزور جسم کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ کا شریک بن سحماء یعنی میرے چچا زاد بھائی کے متعلق کیا خیال ہے۔ وہ بڑی سرینوں والے، کالی آنکھوں اور مضبوط اعضاء کے مالک، زیادہ گوشت والے آدمی تھے۔ وہ فلاں عورت یعنی ان کی بیوی کو پہنچا اور وہ اب حاملہ ہے، اور میں اس دن سے اس کے قریب نہیں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شریک کو بلایا، تو انہوں نے انکار کر دیا اور پھر عورت کو بلایا تو اس نے بھی انکار کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت اور اس کے خاوند کے درمیان لعان کرایا، جب کہ وہ عورت حاملہ بھی تھی۔ پھر فرمایا: ”تم دیکھنا اگر اس نے کالا سیاہ، بڑی سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے خاوند نے سچ کہا ہے اور اگر اس نے سرخ، چھپکلی کی مانند بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس (کے خاوند) نے اس پر تہمت لگائی ہے۔“ پھر اس نے کالا، بڑی سرینوں والا بچہ جنا۔ جو بات ہمیں پہنچی ہے وہ یہ کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہوا ہوتا تو اس کا معاملہ واضح ہے۔“ یعنی یہ بچہ اس کا ہے جس سے اس نے زنا کیا، اگر اللہ کا یہ حکم نہ ہوتا کہ فیصلہ اقرار یا بذات خود اعتراف پر کیا جائے، لہٰذا دونوں میں سے کسی ایک کے دوسرے پر تہمت لگانے پر فیصلہ درست نہیں اگر چہ معاملہ واضح ہی ہو۔ اور اگر اللہ کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس میں دوسرا فیصلہ (یعنی رجم) کرتا۔ بعد میں نہ آپ نے شریک سے کچھ کہا اور نہ ہی اس عورت سے، اور بہتر علم اللہ کے پاس ہے۔ اور حکم الہی کا نفاذ زیادہ بہتر ہے باوجود اس کے کہ آپ جانتے تھے کہ ان دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ پھر بعد میں پتہ بھی چل گیا کہ خاوند اپنے دعوی میں سچا تھا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب اللعان / حدیث: 1337
تخریج حدیث اسناده معضل، الا ان المتن صحيح ، انظر تخريج الحديث السابق برقم (1331)، (1333)، (1329)۔