مسند الإمام الشافعي
كتاب اللعان— لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام) کا بیان
بَابُ سُنَّةِ اللَّعَانِ باب: لعان کے مسنون طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 1334
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ شَدَّادٍ: هِيَ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُهَا" . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ قَدْ أَعْلَنَتْ.حافظ محمد فہد
قاسم بن محمد سے روایت ہے، فرمایا کہ میں اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا جب انہوں نے لعان کرنے والوں کی بات بیان کی، تو عبداللہ بن شداد نے انہیں کہا: ”یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو بغیر گواہی کے رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا“؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نہیں، وہ تو علانیہ فحش حرکات کرتی تھی۔“