حدیث نمبر: 1333
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ [ ص: 141 ] رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قَضَى فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ، ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ. وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ.
حافظ محمد فہد

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پائے تو وہ اسے قتل کر دے؟ پھر آپ بھی اسے قصاص میں قتل کریں گے یا اب اسے کیا کرنا چاہیے؟“ ان ہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی وہ آیات نازل کیں جن میں لعان کرنے والوں کی تفصیل ہے۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہو گیا۔“ بیان کیا کہ پھر دونوں نے لعان کیا اور میں وہاں موجود تھا، پھر شوہر نے بیوی کو نبی ﷺ کی موجودگی میں (تین) طلاقیں دے دیں، پھر اس کے بعد یہ دستور ہو گیا کہ لعان کرنے والوں کو علیحدہ علیحدہ کرایا جائے، اور وہ عورت حاملہ تھی تو اس کے خاوند نے بچے کا باپ بننے سے انکار کر دیا تو وہ بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب اللعان / حدیث: 1333
تخریج حدیث اخرجه البخاری، الطلاق باب التلاعن في المسجد (5309) ومسلم، اللعان (1492)۔