مسند الإمام الشافعي
كتاب اللعان— لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام) کا بیان
بَابُ سُنَّةِ اللَّعَانِ باب: لعان کے مسنون طریقے کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ عُوَيْمِرًا جَاءَ إِلَى عَاصِمٍ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَيَقْتُلُهُ أَتَقْتُلُونَهُ بِهِ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا فَرَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى عُوَيْمِرٍ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ وَقَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ خِلَافَ عَاصِمٍ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ نَزَلَ فِيكُمَا الْقُرْآنُ فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا، ثُمَّ قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَفَارَقَهَا وَمَا أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذُو أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پاتا ہے اور وہ اسے قتل کر دے، پھر کیا تم اسے بھی قصاص کے طور پر قتل کر دو گے؟ لہٰذا وہ آدمی کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے سوال پوچھ دو۔“ انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند جانا اور ناگواری کا اظہار کیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ، عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ نبی ﷺ نے مسئلے کو ناپسند جانا اور ناگواری کا اظہار بھی کیا، تو عویمر نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں خود نبی ﷺ کے پاس جاؤں گا۔“ وہ آئے تو عاصم رضی اللہ عنہ کے جانے کے بعد قرآن نازل ہو چکا تھا، انہوں نے آکر رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے، پھر وہ دونوں (میاں بیوی) آئے اور انہوں نے لعان کیا۔“ پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں اب بھی اسے اپنے نکاح میں رکھوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں جھوٹا ہوں“، چنانچہ انہوں نے اسے علیحدہ کر دیا (یعنی طلاق دے دی) جبکہ نبی ﷺ نے انہیں یہ حکم نہیں دیا تھا، پھر یہی طریقہ لعان کرنے والوں میں رائج ہو گیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو! اگر اس (عورت) نے سرخ، پست قد والا، چھپکلی کی مانند بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے شوہر نے اس پر تہمت لگائی ہے اور اگر اس نے سیاہ رنگ کا، بڑی آنکھوں والا اور بڑی سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ اس کے شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا ہے۔“ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ ناپسندیدہ صفت کا تھا (یعنی زنا سے تھا)۔