حدیث نمبر: 1329
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ: أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ. فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتَنِي عَنْهَا. فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا" . فَقَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
حافظ محمد فہد

سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر العجلانی رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: ”اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قصاص میں قتل کرو گے، پھر وہ کیا کرے؟ عاصم! میرے لیے آپ یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر دیجیے“۔ جب عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سوالات کو ناپسند کیا اور اس سلسلے میں آپ ﷺ نے جو بات کہی وہ عاصم رضی اللہ عنہ پر ناگوار گزری۔ پھر جب عاصم رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان سے آکر پوچھا: ”اے عاصم! رسول اللہ ﷺ نے کیا جواب دیا؟“ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کی طرف سے مجھے خیر نہیں پہنچی، رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو ناگوار جانا جو تم نے پوچھی تھی“۔ عویمر نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں یہ مسئلہ پوچھے بغیر نہیں رہوں گا“۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، عویمر نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پاتا ہے اور اس کو قتل کر دے تو پھر کیا تم اسے قصاصاً قتل کر دو گے؟ وہ کیا کرے؟“ (یہ سن کر) نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں وحی نازل کی ہے، لہذا تم جاؤ اور اسے لے کر آؤ“۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر دونوں (میاں بیوی) نے لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت موجود تھا، جب لعان سے دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے بعد بھی میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (مطلب یہ ہوگا) کہ میں جھوٹا ہوں، لہذا اس نے اپنی بیوی کو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی تین طلاق دے دیں“۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ جاری ہو گیا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب اللعان / حدیث: 1329
تخریج حدیث أخرجه البخارى، الطلاق، باب اللعان ومن طلق بعد اللعان (5308) ومسلم ، اللعان (1492)۔