حدیث نمبر: 1323
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ: أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَتْهَا: أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِطَرَفِ الْقُدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ. فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَعَمْ" ، فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ، فَقَالَ: "كَيْفَ قُلْتِ" ؟ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي. فَقَالَ: "امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" . قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.
حافظ محمد فہد

فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ آپ مجھے اپنے ماں باپ کے گھر بنی خدرہ میں بھیج دیں، کیونکہ ان کا شوہر اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا، جب قدوم کے مقام پر پہنچا تو غلاموں نے اسے قتل کر دیا۔ فریعہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میکے جانے کی اجازت مانگی کیونکہ خاوند نے کوئی ایسا گھر نہیں چھوڑا تھا جس کا وہ مالک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ (تم جا سکتی ہو)۔ جب میں واپس حجرے یا مسجد میں پہنچی تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا یا مجھے بلانے کا حکم دیا اور مجھے بلایا گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کیا کہا؟“ فرماتی ہیں پھر میں نے دوبارہ اپنے خاوند کا واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے (شوہر والے) گھر ہی رہو یہاں تک کہ تمہاری عدت پوری ہو جائے۔“ وہ کہتی ہیں، میں نے وہاں چار ماہ 10 دن عدت گزاری، مزید کہتی ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے تو انہوں نے کسی کو میرے پاس بھیجا اور مجھ سے یہ مسئلہ دریافت کیا، تو میں نے انہیں بتایا پھر انہوں نے اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1323
تخریج حدیث اخرجه ابوداؤد الطلاق، باب في المتوفى عنها تنتقل (2300) والترمذى، الطلاق واللعان، باب ما جاء أین تعتد المتوفى عنها زوجها (1204) وقال ”حسن صحيح“ وابن ماجة (2031) والنسائي (3558)۔ وصححه ابن الجارود (759) والحاكم 2/ 208 - وابن حبان۔