مسند الإمام الشافعي
كتاب العدد والسكنى والنفقات— عدت، رہائش اور نان و نفقہ کا بیان
بَابٌ فِي نَفَقَةِ الْمُطَلَّقَةِ باب: مطلقہ عورت کے نان و نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1322
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: لَيْسَتِ الْمَبْتُوتَةُ الْحُبْلَى مِنْهُ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ الْحَبَلِ، فَإِذَا كَانَتْ غَيْرَ حُبْلَى فَلَا نَفَقَةَ لَهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.حافظ محمد فہد
ابن جریج رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عطا رحمہ اللہ نے فرمایا : تین طلاق یافتہ حاملہ عورت کے لیے خاوند کے ذمہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ اس کے حمل کی وجہ سے اس پر خرچ کرے، اور اگر وہ حاملہ نہ ہو تو اس کا خرچہ خاوند پر نہیں ہے۔