حدیث نمبر: 1320
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا أَلْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَبَعَثَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ" .
حافظ محمد فہد

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت شام میں تھے وہاں موجود نہ تھے (یعنی وہیں سے طلاق بھیج دی)، تو اس کے وکیل نے ان (فاطمہ) کی طرف کچھ جَو بھیج دیے، جس پر وہ ناراض ہو گئیں تو اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہارا کچھ بھی حق ہم پر نہیں ہے۔“ (یہ سن کر) وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے یہ بات ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ (خرچہ) اس کے ذمہ نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1320
تخریج حدیث انظر الحديث السابق برقم (1315)۔