حدیث نمبر: 1317
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ وَسُلَيْمَانَ: أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ: أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ أَلْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مَرْوَانُ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا. فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ [ ص: 133 ] عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي. وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ: أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَتْ: لَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ شَأْنَ فَاطِمَةَ. فَقَالَ: إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ.
حافظ محمد فہد

قاسم اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے، دونوں بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق بتہ دے دی، تو عبدالرحمن بن حکم انہیں شوہر کے گھر سے لے آئے، عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے امیر مدینہ مروان بن حکم کو پیغام بھیجا اور فرمایا، اے مروان اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے (خاوند کے) گھر لوٹا دو۔“ سلیمان کی بیان کردہ حدیث میں ہے کہ مروان نے کہا: ”عبدالرحمن مجھ پر غالب آ گئے (یعنی میری بات نہیں مانی)۔“ اور قاسم کی حدیث میں ہے کہ مروان نے جواباً کہا: ”کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تم فاطمہ کا واقعہ بیان نہ کرتے تو بھی تمہارا یہ حق نہیں (کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں ہے)۔“ مروان نے اس کے جواب میں کہا: ”اگر فاطمہ کا شوہر کے گھر سے منتقل ہونا شوہر کے رشتہ داروں کے مابین کشیدگی کی وجہ سے تھا، تو وہ کیفیت یہاں بھی موجود ہے۔“ (یعنی ان کے ہاں بھی کشیدگی ہے)۔

حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب العدد والسكنى والنفقات / حدیث: 1317
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الطلاق، باب قصة فاطمة بنت قيس وقول الله عز وجل ﴿واتقوا الله ...﴾ رقم: (5322،5321)۔